الشہید ویلفیئر پاکستان
زیر انتظام:
شھید فاونڈیشن پاکستانُ
شہید فائونڈیشن پاکستان ( رجسٹرڈ) گزشتہ کئی سالوں
سے پاکستان کے طول و عرض میں خدمت خانوادہ شہداء
انجام دے رہی رہے کئی شہروں میں ورکنگ کمیٹی اور
نمائندگان بہ احسن و خوبی خدمت خانوادہ شہداء میں
مشغول ہیں، شروع دن سے لیکر اور اب تک ادارے کی
کوشش رہی کہ مسائل خانوادہ شہداء کے پہلی ترجیح
سمجھ کر حلتک کئے جائیں اور الحمدﷲ کافی حد تک اس
پر قابو پایا گیا ، اور اب کوئی بھی واقع ہو یا
سانحہ ہو اس کے متاثرین کی
فوری طور پر دا د رسی کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کئی ایس دل دھلانے والے قومی
مسائل ہیں ، جو انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمارے
سامنے آ تے رہتے ہیں جن کے حوالئے سے کوئی منظم
نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ادارہ
شہید فاونڈیشن پاکستان میں کافی عرصہ سے گفت
شنید اور بحث و مباحثہ جاری تھا کہ کس طرح
پاکستان کے عام مومنین کی مدد کی جائے اور ان کے
مسائل کسی حد تک حل کی سعی کی جائے ۔
۸ اکتوبر 2005 کا زلزلہ پوری ملت پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ
اور امتحان کی گھڑی تھی، تمام اداروں ، حکومت ،
سیاسی جماعتیں، مذہبی جماعتیں، این جی اوز ، فوج
اور تمام پاکستان کے لوگ سب ان زلزلہ زدہ لوگوں کی
مدد کے لئے پہنچے اور ان کی ہر طرح سے امداد کی۔
شہید فائونڈیشن پاکستان نے بھی کچھ مومنین کے
تعاون سے ہنگامی طور پر 50 شیلٹر بنو اکر بھجوائے
اس میں تقریبا 2,400,000/= (چوبیس لاکھ روپے ) کا
خرچہ کیا گیا تھا گوکہ اس وقت الشہید ویلفیئر کی
بنیاد نہیں رکھی گئی تھی۔ مگر الشہید ویلفیئر کی
سوچ ضرورر پیدا ہوئی۔
الشہید ویلفیئرکی
بنیاد
لہٰذا اب بہت غور و خوض کے بعد شہید فائونڈیشن
پاکستان کے تحت الشہید ویلفیئر کی بنیاد رکھ دی
گئی ہے۔ اور ابتک اس کے تحت مندرجہ کام کئے جا
چکے ہیں
ہنگامی امداد
الشہید ویلفیئر پاکستان نے اس حوالے سے عہد کیاہے
کہ اگروطنِ عزیز پاکستان میں کوئی ہنگامی صورتحال
پیش ہو توملتِ تشیع کی جانب سے دوسرے اداروں کی
طرح الشہید ویلفیئر بھی خدمتِ ملت میں پیش پیش
رہے گی۔ ابتک اس سلسلے میں مندرجہ کام سر انجام
دیئے جا چکے ہیں۔
٭ امداد برائے زیارت (بلوچستان) زلزلہ زدگان 4 اکتوبر 2008 زیارت کے مقام پر زلزلہ
آیا تو اس موقع پر بھی شہید فائونڈیشن پاکستان کے
الشہید ویلفیئر پاکستان کے
زیر انتظام وام
کے مقام پر عام لوگوں میں راشن اور
کیمپ تقسیم کئے۔ اس میں ادارے نفر 150000/= کے
خرچہ کیا، اس کے علاوہ گرم کپڑے روزمرہ کے استعمال
کی چیزیں شامل
تھی۔ اس سلسلے میں شہید فائونڈیشن پاکستان
کی کوئٹہ کی ورکنگ کمیٹی قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اس کام کو انجام دیا ہے اور ادارے کی
بھر پور مدد کی۔
٭ امداد برائے زلزلہ زدگان کشمیر و علاقہ
جات
8 اکتوبر 2005ء کے زلزدگان کے لئے مومنین کے
تعاون سے چوبیس لاکھ روپے سے لوہے کے فولڈنگ خیمے بنوائے گئے۔
٭ ہنگامی امداد برائے جنگِ پارا چنار
2007 ، 2008 میں عام مومنین اور
زخمیوں کے لئے تقریباً,4,000,000=
کی کثیرر قم وہاں بھیجی جوکہ مختلف امور میں خرچ
ہوئی،
جس میں گھروں کی مرمت زخمیوں کی دیکھ
بھال، گزارہ الائونس اور راشن شامل ہیں۔
سال تک پاراچنار کی ۵لاکھ شیعہ آبادی کوچاروں طرف
سے محصور کرکے جنگ
تھوپی گئی اس جنگ میں ہزاروں لوگ بے
گھر اور زخمی جبکہ سیکڑوں شہید ئے۔
٭ عیدقربان پرگوشت کی تقسیم:
پچھلے برس سے عید قربان پر گوشت جمع کیا جاتا ہے
اور پلاسٹک بیگ اور کپڑے کے تھیلے میںبند کرکے
ضرورت مند مومنین خصوصا پسماندہ علاقوں میں مقیم لوگوں تک
پہنچایا جاتا ہے
٭ روزگار اسکیم
الشہید ویلفیئر نے یہ تہیہ کیا ہے کہ مستحق
مومنین کو اس طرح سپورٹ کیا جائے کے وہ اپنے
پیروں پر کھڑے ہو جائیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔
اس سلسلے میں فی الحال فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ
سے صرف کچھ مستحق مومنین کو مختلف کام شروع کرائے
گئے ہیں۔ اس میں کسی بھی مومن کو اس کے تجر بے کی
بنیاد پر کام شروع کروانے کو ترجیح دی جاتی ہے
تاکہ انہیں کام کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔
بحرحال اس شعبہ روزگار میں مخیر
حضرات کے تعاون سے کافی مستحق مومنین کو اپنے
پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
ٹربائن
ٹیوب ویل برائے ٹانک ( صوبہ سرحد)
/پانی کی فراھمی
ٹانک صوبہ سرحد کا ایک چھوٹا شہر ہے جو کہ جنوبی
وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب واقع ہے ،
یہاں کے مومنین بھی ڈیرہ اسماعیل کے مومنین کی طرح
دہشت گردی کی شدت سے شدید متاثر ہیں اور طالبان کی
دہشت گردی کی وجہ سے جہاں ہر طرح کے مسائل سے
درپیش ہیں وہاں پانی کی بنیادی ضرورت سے بھی محروم
ہو چکے تھے ، گورنمنٹ کی طرف سے علاقے کے لوگوں کے
لئے جوپانی کے تالاب اور ڈیوب ویل لگائیں گئے ہیں
وہ شیعہ مخالف اور طالبان کے ذیرانتظام قبائلی
علاقوں میں ہےںیہاں مومنین کےلئے پانی حاصل کرنے
کےلئے تمام ذرائع بند کردیئے گئے ہیں، اوراب تک 2
افراد پانی لاتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں جب کہ کئی
مومنین زخمی کردیئے گئے ہیں۔
ٹانک ضلع کے اندر ایک بڑی شیعہ آبادی جس کا نام
گراھ بلوچ ہے جو کہ ٹانک سے ٹھوڑے فاصلے پر ہے، یہ
مومنین کی بڑی پرانی آبادی ہے،مقامی لوگوں کے
مطابق تقریباً دو سو سال سے یہاں آباد ہیں ۔ شہید
فائونڈیشن پاکستان نے الشہید ویلفیئر پاکستان کے
تحت واٹر پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہوا ہے اس کی
ضرورت وہاں کے مومنین کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے
عمل میں آئی کہ جہاں پینے کے پانی کا مسئلہ کافی
دشوار ہوتا جا رہا تھا، 600 گھروں کی یہ آبادی جس
میں تقریباً 4 ہزار لوگ بستے ہیں ۔ الحمد اللہ آپ
مومنین کے تعاون سے الشہید ولفیئر کے تحت یہاں پرs
160,000 سولہ لاکھ
روپ کے لاگت سے ٹربائن ٹیوب ویل نومبر 2009 میں
لگوایا جا چکا ہے جس سے مومنین کے حوصلے کافی
بلند ہوئے ہیں۔ ٹانک کے مومنین کی تفصیلی صورتحال
ہم پہلے ہی ویب سائٹ کے ذریعے آپ کے سامنے پیش کر
چکے ہیں۔
امداد برائے زخمی
ملگ میں دھشتگردی کی وجہ سے جہاں ہزاروں لوگ شہید
ہو چکے ہیں وہاں اسے کئی گناہ زیادہ لوگ مختلف
سانحات میں زخمی ہوکر معذور و اپاہج ہوچکے ہیں اور
اپنے کاروبار اور ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کئی زخمی اپنا علاج نہ کراسکنے کی وجہ سے اپنی جان
جانِ آفریںکرچکے ہیں۔ سانحات واقعات میں زخمی
ہونے والے مومنین اکثر مالی مشکلات کا شکار دیکھے
گئے ہیں، اگر مومنین اس حوالے سے تعاون کریں تو ان
کی میڈیکل یا گھر کے خرچے میں کچھ امداد کرسکتے
ہیں، اس حوالے سے اب تک کوئی واضح ادارے موجود
نہیں ہے جس کی وجہ سے ان زخمیوں کی کافی مشکلات کا
سامنا ہے ، ایک زخمی جب چار پانچ مہینے اسپتال میں
رہے گا اور وہ گھر کا سر پرست بھی ہو تو وہ کس طرح
اپنے گھرکا خرچہ اور اسپتال کا خرچہ برداشت کرے
گا، یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
لھٰذا الشھید ویلفئر کی جانب سے زخمیوں کی امدار
کا سلسہ شروع کیا گیا ہے وہ مستحق زخمی جو جب تک
زیرِ علاج ہیں ان کے گھر کے اخراجات برداشت کئے
جائیں گے۔ اس
سلسلے میں 8،9،10 محرم 1431 ھجری﴿ 26، 27،28 دسمبر 2009﴾ میں
ہونے والے سانحات کراچی اور ملک کے مختلف حصوں میں
ہونے والے زخمیوں کا سروے کیا جا رہا ہے ۔ اور کچھ
زخمیوں کی امداد شروع کی |