ڈیرہ
اسماعیل خان لہورنگ
ہے
ڈیرہ
اسماعیل خان
صوبہ سرحد کا
دوسرا بڑا شہر
ہے۔ جس میں
مکتب تشیع کی
بہت بڑی تعداد
پاکستان بننے
سے پہلے ہی
رہے رہی ہے-عرصہ
دراز تک تمام
مسلمان آپس
میں مل جل کر
رہتے اور اپنے
عقیدے کے
مطابق رب
العزت کے حضورسجدہ
ریز ہوتے۔ پھر
کچھ ایسا ہوا
کہ مکتب تشیع
پہ عرصہ حیات
تنگ کیا جانے
لگا۔ سب
سے پہلے ایک
قدیمی عاشورہ
کا جلوس جو
بھکر سے ڈیرہ
اسماعیل خان
جاتا تھا اس
پر پابندی لگا
دی گئی۔ دو
سال یعنی 1986
اور1987 تک یہ
جلوس نہ نکل
سکا۔ لہذا 1988 کے
عاشورہ میں اس
جلوس کو لازمی
نکالنے کا
فیصلہ کیا
گیا۔ اس فیصلہ
کو سنتے ہی
پورے پاکستان
سے مومنین
ڈیرہ اسماعیل
خان پہنچنا
شروع ہوگئے-
انتظامیہ نے ایک
خط کھینچ دیا
کہ اس سے آگے
نہ بڑھا جائے-
مگر امام حسین
کے متوالے ہر
حد سے گزرنے
کہ لئے تیار
تھے۔30
سیپٹمبر 1988کا
دن شہید ہونے
والوں کے لئے
ایک بڑی نوید
لے کر آیا۔ حسینی
جوان علم عباس
لے کر آگے
بڑھتے رہے اور
انکے سینے
گولیاں روکتے
رہے۔ اس
سانحہ میں کل 10 افراد
شہید ہوئےاور
کئی مومنین
زخمی ہوئے۔
بہرحال
مومنین نے ہمت
نہ ہاری اوراس
عاشورہ کے
جلوس کو 3
اکتوبر 1988 کو
آخری منزل تک
پہنچایا۔
اس کے
بعد 1996 میں 7
محرم کو
عزاداروں کی
گاڑی پر
فائرنگ کی گئ جس میں 6
مومنین شہید
ہوئے۔ یہ
واقعہ سردار
والا کے علاقے
میں وقوع پذیر
ہوا۔ ٹھیک ایک
سال کے بعد حاجی مورا
میں 2 مومنین
شہید کر دیئے
گئے۔ 1998 میں
معروف سرجن
ڈاکٹر علی
بنگش کو شہید کر
دیا گیا۔ 1999
میں بھکر میں
ایک بے گناھ
کانسٹیبل قمر
عباس بلوچ کو
شہید کردیا
گیا، جس کی
عمر صرف 28 سال
تھی۔ اس
کے بعد بھکر
میں ایک ہی دن
میں 5 مومنین
کی شہادتیں
واقع ہوئیں- 28سیپٹپبر
1999 ایک ایسا دن
جس میں ملت
جعفریہ کا اہم
رہنما خورشید
انور ایڈوکیٹ
اپنی دختر ام
لیلی اور اپنے
ڈرائیور سید
حسن علی شاہ
سمیت شہید کر
دیئے گئے۔
لیکن اس پر
بھی بس نہ
ہوئی۔ اور یہ
ظلم اور
بربریت کا
طوفان نہ
تھما۔ کوئی
پرسان حال نہ
تھانہ وفاقی
حکومت اور نہ
صوبائی حکومت
کہ جس کہ
ذریعے ہر شہری
کے جان و مال کا
تحفظ فرض ہوتا
ہے ۔
1999 سے لے کر
تاحال ابتک
بیش بہا جوان،
بچے، بوڑھے،
ڈاکٹر، وکیل
اور ہر طبقہ
ہائے زندگی سے
تعلق رکھنے
والے افراد جن
کے دل میں
محمد و آل
محمد کی محبت
تھی ظلم کا نشانہ
بنتے رہے۔ ان
میں
ڈاکٹر غلام شبیر
جو حاجی مورہ
کے رہائشی
تھے، محمد
شکیل اعوان بستی
استرانہ،
شہید انسپیکڑ
غلام قمبر،لیاقت علی
بھٹہ، سید رجب
علی شاہ زیدی
ایس پی سید
عفیف عباس ایڈ
وکیٹ، پٹواری
محمد اکرم، عمرانی،
مقبول احمد
سیال جن کا
تعلق صحافت کے
شعبے سے تھا،
پروفیسر نزکت
علی عمرانی جو کہ
گومل
یونیورسٹی ڈی
آئی خان میں
ایم بی اے
ڈیپارٹمنٹ کے
چئرمین تھے۔
16
جون 2008 میں ڈی
آئی کان کے پر
رونق علاقے
محلہ چراغ
ٹوپا والا کے
قریب جو کہ
شہر کے وسط
میں واقعہ ہے مسجد محمد
جعفریہ حضرت
عباس میں بعدِ
نمازِ مغرب
ایک زوردار بم
دھماکہ ہوا،
جس کہ نتیجے
میں کل چار
مومنین نمازی
شہید ہوئے اور
مسجد کے پیش
نماز شدید
زخمی ہوئے۔
ان بارگاہِ ایزدی
میں حاضر ہونے
والوں کا کیا
قصور تھا ؟ حملہ
کرنے والوں نے
نماز کی پرواہ
نہ کی ۔ یہ کام کم
از کم ایک
مسلمان نہیں
کرسکتا
19 اگست
2008 بروز منگل
المناک ترین
دن جب مومنین،
شہید سید باسط
شاہ کی میت لے
کے اسپتال میں
جمع تھے توسفاک
کرائے کے
قاتلوںنے
وہاں بم دھماکہ
کیاگیا جس میں
30 مومنین شہید
ہوئے جن میں زیادہ
تر ایک ہی
خاندان کے
ےتھے۔
اگر نام
لکھنے پہ آئیں
تو ایک لمبی
فہرست شہداء
بنتی ہے۔ لیکن
ہم شہادتوں سے
گھبرانے والے
نہیں۔ آئے روز
کہیں نہ کہیں
کوئی واقعہ
رونما ہوتا ہے۔
اور ہم اپنے
پیاروں کو
دفنا کہ واپس
آجاتے ہیں۔
پھر ایف آئی
آر کٹوانے
جائو تو کٹتی
نہیں، کٹتی ہے
تو نامعلوم
افراد کے
خلاف۔ ایسا کب
تک ہوتا رہے
گا ؟2007 / 2008 میں بہت
زیادہ
شہادتِیں
واقع ہوئیں
ہیں۔ ان دو
سالوں میں
انداز80 شہادتیں
ہوئی ہیں۔ اور
1988 سے 2008 تک ڈی آئی
خان اور ٹانک
میں 140 مومنیں
شہید ہوئے-
اے
مومنین کرام :
اگرچہ ہمارے
بہترین ساتھی
ھم سے جدا
ہوئے اور ان
کا خلا موجود
ہے لیکن ابھی
امتحان اور
بھی ہیں ہمارے
لئے یہ امتحان
کوئی نیا
نہیں۔ بلکہ
شہادتوں کایہ
سلسلہ طویل
تاریخ رکھتا
ہے
آئیے
تجدید عہد
کریں نہ پہلے
کبھی ان
شھادتوں سے گبھرائے
اور نہ اب
گبھرائینگے
اور موجودہ
اور آنے والی
نسلوں میں تحریکِ
حسینی کی
حرارت کو مزید
بڑھائینگے۔
خدا ہم سب کو
شہداء کربلا
کے راستے پر
چلنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
کرگئے
دین کو مضبوط
حسین ع ابن
علی ع
اب
جو لاکھوں
یزید آئیں بھی
تو کیا ہوتا ہے