پاراچنار  ڈیڑھ سالہ جنگِ

 

31 مارچ 2007 کو پاراچنار میں امام حسین﴿ع﴾کی شان میں گستاخی پھر 16 اپریل 2007 کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسے پرشدید فائرنگ سے شروع ہونے والی جنگ تاحال جاری ہے۔ ڈیڑھ سالہ جنگ کے دوران 350 سے زیادہ شہداء اور 2000 زخمیوں  اور اربوں روپے کے تعلیمی اور اقتصادی نقصان کے ساتھ ساتھ تاحال 5 لاکھ کی آبادی کا محاصرہ جاری ہے۔ پاکستان کی خوبصورت ترین اور تعلیم یافتہ وادی عملا پاکستان سے کٹ کے رہے گئی ہے۔ اس جنگ میں طالبان دہشتگردوں نے ہنگو اور ٹل کے بازاروں سے باری اسلحہ کے ساتھ گذر کر پاراچنار آکر مومنین پر حملہ کیا۔ ہر طرف آگ ہی آگ برستی رہی، ایمبولینس جو مقبوضہ فلسطین میں بھی آذاد ہیں کو بھی نشنانہ بنایا گیا۔ نرس سمیت کئی لوگ شہید ہوگئے۔ سرکار کی نگرانی میں چار بار مظلوم امام ﴿ع﴾ کے چاہنے والوں کو نشانہ بنایا گیا۔  ایک ارب سے زیادہ کے ڈیزل، پیٹرول، اشیاء خورد نوش، گاڑیاں اور ٹینکر اغوا کرکے غائب کر دیئے گئے، تاکہ مومنین ان سے فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ اسی طرح سرکار کی نگرانی میں 50 تک مومنین شہید کرکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ کئی ماھ سے اسپتالوں میں آکسیجن کے سلینڈر نہیں ہیں۔ جسکی وجہ سے بارہ بچوں سمیت کئی زخمی شہید ہوگئے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ عام مریض بھی سہولیات نہ ہوے کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہسپتال میں نہ ادویات ہیں نہ نہ اسپیشلسٹ ڈاکٹر سوائے ایک دو مقامی ڈاکٹرزکے، مارکیٹیں مکمل خالی ہیں۔ اشیاء خورد نوش اور دیگر سامان مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ ڈیزل ناپید ہے۔

 

فاٹا کے علاقے میں٪ 55تعلیم کی شرح پارا چنار کا بہت بڑا اعزاز ہے مگراب تعلیمی لحاظ سے علاقہ تباہ ہو رہاہے۔ کالجوں میں دوسرے علاقوں کے لیکچرز ڈیڑھ سال سے چھٹی پر ہیں۔ جنگ مسلسل جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی حکومت نہیں ہے۔ یا اگر ہے تو وہ بھی ہمارے لئے فریق ہے۔ میڈیا کا کردار اتنے بڑے واقعہ پر نہایت ئی غفلت آمیز اور غیر ذمیدرارانہ ہے۔ پاراچنار 5 لاکھ افراد کے لئے جیل بن گیا ہے۔ اور قیدیوں کو گوانتاناموبے جیسی اذیتناک صورتحال کا سامنا ہے۔ مگر گذشتہ ڈیڑھ سال میں کربلا کے پیروکاروں نے عصر حاضر کے یزید کو وہ سبق سکھیا ہے جوتاریخ بھی یاد رکھے گی۔ ان تمام تر مشکلات میں ہم مکمل پر امیدی کے ساتھ بلند  حوصلہ اور ثابت قدم  ہیں۔ حالات کا مقابلا کرنا ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں، کہ حزب اللہ کے بعد عالم تشیع نے دوسری بڑی فتح پارچنار میں حاصل کی ہے۔ ڈیڑھ سالہ محاصرے میں ہم نے کسی ظالم قوت کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کیاہے۔حریت و آزادی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔  مگر کیا جدت پسندی کے اعلانات کرنے والے حکمران، انسانی حقوق کمیشن، اقوامِ عالم، اسلامی دنیا، تعلیم یافتہ معاشرہ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ملک کی حکمرانی کے اندر انتہائی وحشت ناک قتل و غارت گری کرنا، ذ بح کرنا، ہاتھ پیر کاٹنا،تمام تر راستے بند کرنا، خواتین و بچوں کو بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، تعلیمی  و اقتصادی قتل و غارت گیری کرنے پر ان کے ضمیر خاموش تماشائی ہیں۔

 

 

 آئیےسب مل کر اس انتہائی بڑے اور تاریخی انسانی المیے پر  تعصب و تنگ نظری سے بالا تر ہوکر اور سوچ سمجھ کر کوئی مثبت اور عملی قدم اٹھائیں۔ ورنہ انسان اپنی بقا کہ لئے وہ سب کچھ کرتا ہے جو دنیا میں رائج ہے۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے پھر سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے۔ جو ملک و قوم کے لئے بہیت بڑا المیہ ہوگا۔

 

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں  بدلی

نہ جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

 

ان شہداء پر سلام کہ جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دین مبین کی سر بلندی کے لئے اور مکتبِ تشیع کو سرفراز کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو زحمت میں ڈالا۔ اور اپنے پیچھے اپنے خانوادے کو چھوڑ گئے، اب ملتِ جعفریہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی مشکلات میں شاملِ حال رہے۔



Parachnar Presentation Part 1

Parachnar Presentation Part 2

Parachnar Presentation Part 3

Parachnar Presentation Part 4